دارالعلوم دیوبند کا لطیفۂ غیبی از مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ


۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شکست و ناکامی کے بعد اسلام اور مسلمانوں کا مستقبل نظر بظاہر تاریک تھا، انگریز کے منحوس قدم ہندوستان سے اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے پر تلے ہوئے تھے اور انگریز بڑے طمطراق سے یہ اعلان کررہا تھا:
’’جس طرح کل ہمارے بزرگ کُل کے کُل ایک ساتھ عیسائی ہوگئے تھے اسی طرح یہاں (ہندوستان میں) بھی (تمام لوگ) ایک ساتھ عیسائی ہوجائیں گے۔‘‘ (مسلمانوں کا روشن مستقبل ص:۱۴۲)
سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نہ ہوتے تو اسلام فتنہ ارتداد کی نذر ہوگیا ہوتا، اہل نظر آج یہ کہتے ہیں کہ انگریز کے دورِ تسلط میں دارالعلوم دیوبند کا لطیفہ غیبی ظہور پذیر نہ ہوتا، جو حضرت حاجی صاحبؒ کے بقول اوقات سحر گاہی میں پیشانیاں رگڑ رگڑ کر گڑگڑانے سے ظہور پذیر ہوا، تو شاید انگریز کی مراد بر آتی اور اسلام ہندوستان سے رخصت ہوگیا ہوتا۔ (تحفۂ قادیانیت)


No comments:

Post a Comment